Skip to content
Home » حضرت عیسیٰ المسیح: قوموں کے لے نور

حضرت عیسیٰ المسیح: قوموں کے لے نور

حضرت عیسی ال مسیح کا یروشلیم کے اندر کھجوری اتوار کے دن داخلہ جہاں سے اسکے آخری ہفتے کی شروعات ہوتی ہے – سورہ ال انبیا (سورہ 21 – نبی لوگ) ہم سے کہتا ہے کہ :

اور اُس (پاکیزہ) خاتون (مریم علیھا السلام) کو بھی (یاد کریں) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) کو جہان والوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیاo

21:91سورہ ال انبیاء

سورہ ال – انبیاء صاف طور سے کہتا ہے کہ الله نے نبی حضرت عیسی ال مسیح کو تمام لوگوں کے لئے ایک نشانی بنایا صرف کچھ لوگوں کے لئے نہیں جیسے مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے –نبی حضرت عیسی ال مسیح ہم سب کے لئے کیسے نشانی ٹھرتے ہیں ؟ الله کی دنیا کی تخلیق دنیا کے تمام لوگوں کے لئے عالمگیر ہے – اسلئے حضرت عیسی ال مسیح کا یہ آخری ہفتہ اس بطور پیچھے چھ دن کی تخلیق کی طرف اشارہ کرتا جسے انہوں نے زبانی بولا اور عمل کیا قرآن شریف اور تورات شریف دونوں تعلیم دیتے ہیں کہ الله نے ہر چیز کو چھ دنوں میں تخلیق کی      

ہم حضرت عیسی ال مسیح کے آخری ہفتے کی باتوں کو ہر ایک دن سے شروع کرتے ہیں ،غور کرتے ہوئے کہ کس طرح اسکی تمام تعلیمات اور عمل تخلیق کیطرف اشارہ کرتی ہیں –یہ بتایگا کہ اس ہفتے کے ہر ایک  دن کے واقعیات شرو ع زمانے سے لیکر پہلے ہی سے مقدر کئے ہوئے ہے انسانی خیال کے ذرئیے سے نہیں کیونکہ  انسان ان واقعات کی تنظیم نہیں کر سکتا جو صدیوں سے الگ کیا گیا ہو – ہم اتوار سے شرو ع کرتے ہیں جو کہ –دن ایک ہے –

دن 1 –تاریکی میں روشنی

سورہ ان – نور (سورہ 24 –روشنی ) روشنی کی ایک تمثیل پیش کرتا  ہے – وہ بیان کرتا ہے :

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال (جو نورِ محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہے) اُس طاق (نما سینۂ اَقدس) جیسی ہے جس میں چراغِ (نبوت روشن) ہے؛ (وہ) چراغ (قلبِ محمدی کے) فانوس میں رکھا ہے۔ (یہ) فانوس (نورِ الٰہی کے پَرتو سے اس قدر منور ہے) گویا ایک درخشندہ ستارہ ہے (یہ چراغِ نبوت) جو زیتون کے مبارک درخت سے (یعنی عالم قدس کے بابرکت رابطہ وحی سے یا انبیاء و رُسل ہی کے مبارک شجرۂ نبوت سے) روشن ہوا ہے نہ (فقط) شرقی ہے اور نہ غربی (بلکہ اپنے فیضِ نور کی وسعت میں عالم گیر ہے)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تیل (خود ہی) چمک رہا ہے اگرچہ ابھی اسے (وحیِ ربّانی اور معجزاتِ آسمانی کی) آگ نے چھوا بھی نہیں۔ (وہ) نور کے اوپر نور ہے (یعنی نورِ وجود پر نورِ نبوت گویا وہ ذات دوہرے نور کا پیکر ہے)۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور (کی معرفت) تک پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں (کی ہدایت) کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے خوب آگاہ ہے٭o

24:35سورہ ان- نور

یہ تمثیل پیچھے تخلیق کے پہلے دن کا حوالہ دیتی ہے جب الله نے روشنی بنائی – توریت بیان کرتی ہے :

الله نے تخلیق کے پہلے دن کہا کہ روشنی کا وجود ہو تاکہ تاریکی دور کی جاۓ – نشانی بطور یہ دکھانے کے لئے اس گھڑی کے واقعیات الله کی جانب سے منصوب تھے جیسے تخلیق کا پہلا دن ، حضرت مسیح نے خود کو روشنی ہونے دعوے کیا جو تاریکی کو دور کرتا ہے –

(3)اور خُدا نے کہا کہ رَوشنی ہو جا اور رَوشنی ہو گئی۔
(4)اور خُدا نے دیکھا کہ رَوشنی اچھّی ہے اور خُدا نے رَوشنی کو تارِیکی سے جُدا کِیا۔
(5)اور خُدا نے رَوشنی کو تو دِن کہا اور تارِیکی کو رات اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی ۔ سو پہلا دِن ہُؤا۔
(6)اور خُدا نے کہا کہ پانیوں کے درمیان فضا ہو تاکہ پانی پانی سے جُدا ہو جائے۔

1:3-6پیدائش

الله نے تخلیق کے پہلے دن کہا کہ روشنی کا وجود ہو تاکہ تاریکی دور کی جاۓ – نشانی بطور یہ دکھانے کے لئے اس گھڑی کے واقعیات الله کی جانب سے منصوب تھے جیسے تخلیق کا پہلا دن ، حضرت مسیح نے خود کو روشنی ہونے دعوے کیا جو تاریکی کو دور کرتا ہے –

روشنی غیر قوموں پر چمکتی ہے

حضرت عیسیٰ المسیح ایک شاہانہ جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر یروشلیم میں داخل ہوئے بلکل جیسے حضرت زکریا نے 500 سال پہلے نبوت کی تھی، بلکل اُس دن یروشلیم میں داخل ہوئے جیسا حضرت دانیال نے 550 سال پہلے نبوت کی تھی۔ یہودی مختلف ممالک سے یروشلیم عیدِفسح منانے کے لیے آرہے تھے۔ اس لیے یروشلیم حج کی وجہ سے لوگوں کی آمد پر بھرا ہوا تھا۔ (جس طرح لوگ مکہ میں حج جاتے ہیں۔ ) تاہم حضرت عیسیٰ المسیح کی اس آمد کی وجہ سے یہودیوں کے درمیان ایک ہلچل پیدا ہوگی تھی۔ لیکن یہ صرف یہودی ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کی آمد کو نوٹس میں لیا تھا۔ حضرت عیسیٰ المسیح کی یروشلیم میں آمد کے بعد کیا ہوا۔ انجیل مقدس میں یوں درج ہے۔

‘جو لوگ عِید میں پرستِش کرنے آئے تھے اُن میں بعض یُونانی تھے۔ پس اُنہوں نے فِلِپُّس کے پاس جو بَیت صَیدایِ گلِیل کا تھا آ کر اُس سے درخواست کی کہ جناب ہم یِسُو ع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ فِلِپُّس نے آ کر اندر یاس سے کہا ۔ پِھر اندر یاس اور فِلِپُّس نے آ کر یِسُو ع کو خبر دی۔ ‘ یُوحنّا 12:20-22

حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہودیوں اور یونانیوں کے درمیان رکاوٹ

یہ ایک نہایت غیر معمولی بات تھی کہ یہودیوں کے تہوار پر یونانی (غیر ملکی/غیر یہودی) شرکت کریں۔ یہودی اور رومی چونکہ بت پرست تھے۔ اس لیے یہودی اُن کو ناپاک اوراُن سے تعلق رکھنے سے پرہیز رکھتے تھے۔  اور یونانی یہودی مذہب کے بارے میں سوچتے تھے کہ وہ ایک ہی اللہ (جونظر بھی نہیں آتا) کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ یہودیوں کے تہوار کو بے وقوفی سمجھتے تھے۔ اُس وقت صرف یہودی ہی واحد ایسی قوم تھی۔ جو واحد خدا کی عبادت کرتی تھی۔ اس لیے یہ لوگوں ایک دوسرے سے الگ رہنا پسند کرتے تھے۔ غیر یہودی معاشرہ یہودی معاشرے سے تعداد میں بڑا تھا۔ یہودی دوسری دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ یہودی حلال غذا کھاتے، اپنے انبیاء اکرام کی کتاب (تورات شریف) کو پڑھتے، ان سب باتوں کی وجہ سے یہودی دوسری قوموں سے الگ تھلگ رہتے۔

ہمارے اس دور میں، بت پرستی کو پوری دنیا میں مسترد کردیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس بات کو آسانی سے بھول سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ المسیح کے دور میں یہ کتنا مختلف تھا۔ اصل میں حضرت ابراہیم کے دور میں اُن کے علاوہ سب بت پرست مذہب کے پیروکار تھے۔ حضرت موسیٰ کے دور میں تمام قومیں بتوں کی پوجا کرتیں تھیں۔ فرعوں اپنے آپ کو خدا ہونے کا دعوہ کرتا تھا۔ اس طرح اسرائیل چھوٹا سا جزیرہ تھا خداِ واحد کی عبادت کرتا تھا جو ایک بہت بڑے بت پرست سمندر میں گھیرا ہوا تھا۔ لیکن حضرت یسعیاہ نے (750 ق م) )مستقبیل میں سب قوموں میں ہونے والی تبدیلی کو دیکھا۔ اُنہوں نے اس کو یوں لکھا۔

‘اَے جزِیرو میری سُنو! اَے اُمّتو جو دُور ہو کان لگاؤ! خُداوند نے مُجھے رَحِم ہی سے بُلایا ۔ بطنِ مادر ہی سے اُس نے میرے نام کا ذِکر کِیا۔

چُونکہ مَیں خُداوند کی نظر میں جلِیلُ القدر ہُوں اور وہ میری توانائی ہے اِس لِئے وہ جِس نے مُجھے رَحِم ہی سے بنایا تاکہ اُس کا خادِم ہو کر یعقُو ب کو اُس کے پاس واپس لاؤُں اور اِسرائیل کو اُس کے پاس جمع کرُوں یُوں فرماتا ہے۔ ہاں خُداوند فرماتا ہے کہ یہ تو ہلکی سی بات ہے کہ تُو یعقُو ب کے قبائِل کو برپا کرنے اور محفُوظ اِسرائیلِیوں کو واپس لانے کے لِئے میرا خادِم ہو بلکہ مَیں تُجھ کوقَوموں کے لِئے نُور بناؤُں گا کہ تُجھ سے میری نجات زمِین کے کناروں تک پُہنچے۔ ‘ یسعیاہ 49 : 1, 5-6

‘خَوف نہ کر کیونکہ تُو پِھر پشیمان نہ ہو گی ۔ تُونہ گھبرا کیونکہ تُو پِھر رُسوا نہ ہو گی اور اپنی جوانی کا ننگ بُھول جائے گی اور اپنی بیوگی کی عار کو پِھر یادنہ کرے گی۔ ‘ یسعیاہ 54 :4

‘اُٹھ مُنوّر ہو کیونکہ تیرا نُور آ گیا اور خُداوندکا جلال تُجھ پر ظاہِر ہُؤا۔ کیونکہ دیکھ تارِیکی زمِین پر چھا جائے گی اور تِیرگی اُمّتوں پر لیکن خُداوند تُجھ پر طالِع ہو گا اور اُس کاجلال تُجھ پر نُمایاں ہو گا۔ اور قَومیں تیری رَوشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطِین تیرے طلُوع کی تجلّی میں چلیں گے۔ ‘ یسعیاہ  60 :1-3

لہذا حضرت یسعیاہ نبی نے بتایا کہ ایک اللہ تعالیٰ کا ‘خادم’ آئے گا۔ اُس کا تعلق یہودہ (حضرت یقعوب کا ایک قبیلہ) کے قبیلہ سے ہوگا۔ وہ غیر یہودیوں کےلیے نور ہوگا۔ (تمام غیراسرائیلیوں کے لیے) اور یہ نور دنیا کے ہر کونے میں چمکے گی۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا، جب کہ یہودیوں اور دوسری قوموں کے درمیان سینکڑوں سال کی دور پائی جاتی تھی اور ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔

جس دن حضرت عیسیٰ المسیح یروشلیم میں داخل ہوئے تو ہم دیکھ سکتے ہیں اُسی دن غیر قوموں پر نور چمکنا شروع ہوگیا تھا۔ یہاں یہودی تہوار پر یونانی ایک لمبا سفر کرکے آئے تاکہ وہ حضرت عیسیٰ المسیح کے بارے میں جان سکیں۔ لیکن کیا یہودیوں کی طرف سے اس کو حرام سمجھا گیا کہ وہ ایک نبی کو دیکھنے آئے ہیں؟ اُنہوں نے حضرت عیسیٰ المسیح کے حواریوں سے درخواست کی جس کو آپ کے حضور پیش کیا گیا۔ آپ نے اُن سے کیا کہا تھا؟ کیا اُن کو آپ سے ملنے کی اجازت دے دی گئی ج لوگو درست مذہب کے بارے میں بہت کم جانتے تھے؟ انجیل مقدس میں اس بارے میں یوں بیان آیا ہے۔

23یِسُو ع نے جواب میں اُن سے کہا وہ وقت آ گیا کہ اِبنِ آدم جلال پائے۔ 24مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک گیہُوں کا دانہ زمِین میں گِر کر مَر نہیں جاتا اکیلا رہتا ہے لیکن جب مَر جاتا ہے تو بُہت سا پَھل لاتا ہے۔ 25جو اپنی جان کو عزِیز رکھتا ہے وہ اُسے کھو دیتا ہے اور جو دُنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اُسے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے محفُوظ رکھّے گا۔ 26اگر کوئی شخص میری خِدمت کرے تو میرے پِیچھے ہو لے اور جہاں مَیں ہُوں وہاں میرا خادِم بھی ہو گا ۔ اگر کوئی میری خِدمت کرے تو باپ اُس کی عِزّت کرے گا۔ یِسُوع اپنی مَوت کا ذکر کرتاہے
27اب میری جان گھبراتی ہے ۔ پس مَیں کیا کہُوں؟ اَے باپ! مُجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پُہنچا ہُوں۔ 28اَے باپ! اپنے نام کو جلال دے ۔
پس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اُس کو جلال دِیا ہے اور پِھر بھی دُوں گا۔
29جو لوگ کھڑے سُن رہے تھے اُنہوں نے کہا کہ بادِل گرجا ۔ اَوروں نے کہا کہ فرِشتہ اُس سے ہم کلام ہُؤا۔
30یِسُو ع نے جواب میں کہا کہ یہ آواز میرے لِئے نہیں بلکہ تُمہارے لِئے آئی ہے۔31اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے ۔ اب دُنیا کا سردار نِکال دِیا جائے گا۔ 32اور مَیں اگر زمِین سے اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا تو سب کو اپنے پاس کھینچُوں گا۔ 33اُس نے اِس بات سے اِشارہ کِیا کہ مَیں کِس مَوت سے مَرنے کو ہُوں۔
34لوگوں نے اُس کو جواب دِیا کہ ہم نے شرِیعت کی یہ بات سُنی ہے کہ مسِیح ابد تک رہے گا ۔ پِھر تُو کیوں کر کہتا ہے کہ اِبنِ آدم کا اُونچے پر چڑھایا جانا ضرُور ہے؟ یہ اِبنِ آدم کَون ہے؟۔
35پس یِسُو ع نے اُن سے کہا کہ اور تھوڑی دیر تک نُور تُمہارے درمِیان ہے ۔ جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے چلے چلو ۔ اَیسا نہ ہو کہ تارِیکی تُمہیں آ پکڑے اور جو تارِیکی میں چلتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کِدھر جاتا ہے۔ 36جب تک نُور تُمہارے ساتھ ہے نُور پر اِیمان لاؤ تاکہ نُور کے فرزند بنو ۔
لوگوں کی بے اِعتقادی یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر چلا گیا اور اُن سے اپنے آپ کو چُھپایا۔37اور اگرچہ اُس نے اُن کے سامنے اِتنے مُعجِزے دِکھائے تَو بھی وہ اُس پر اِیمان نہ لائے۔38تاکہ یسعیا ہ نبی کا کلام پُورا ہو جو اُس نے کہا کہ اَے خُداوند ہمارے پَیغام کا کِس نے یقِین کِیا ہے ؟
اور خُداوند کا ہاتھ کِس پر ظاہِر ہُؤا ہے؟۔
39اِس سبب سے وہ اِیمان نہ لا سکے کہ یسعیا ہ نے پِھر کہا۔
40اُس نے اُن کی آنکھوں کو اندھا
اور اُن کے دِل کو سخت کر دِیا ۔
اَیسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں
اور دِل سے سمجھیں
اور رجُوع کریں اور مَیں اُنہیں شِفا بخشُوں۔
41یسعیا ہ نے یہ باتیں اِس لِئے کہِیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس نے اُسی کے بارے میں کلام کِیا۔
42تَو بھی سرداروں میں سے بھی بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے مگر فرِیسِیوں کے سبب سے اِقرار نہ کرتے تھے تا اَیسا نہ ہو کہ عِبادت خانہ سے خارِج کِئے جائیں۔ 43کیونکہ وہ خُدا سے عِزّت حاصِل کرنے کی نِسبت اِنسان سے عِزّت حاصِل کرنا زِیادہ چاہتے تھے۔
یِسُوع کی باتیں مُجرِم ٹھہراتی ہیں
44یِسُو ع نے پُکار کر کہا کہ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ مُجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر اِیمان لاتا ہے۔ 45اور جو مُجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔ 46مَیں نُور ہو کر دُنیا میں آیا ہُوں تاکہ جو کوئی مُجھ پر اِیمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔ 47اگر کوئی میری باتیں سُن کر اُن پر عمل نہ کرے تو مَیں اُس کو مُجرِم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو مُجرِم ٹھہرانے نہیں بلکہ دُنیا کو نجات دینے آیا ہُوں۔ 48جو مُجھے نہیں مانتا اور میری باتوں کو قبُول نہیں کرتا اُس کا ایک مُجرِم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخِری دِن وُہی اُسے مُجرِم ٹھہرائے گا۔ 49کیونکہ مَیں نے کُچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جِس نے مُجھے بھیجا اُسی نے مُجھ کو حُکم دِیا ہے کہ کیا کہُوں اور کیا بولُوں۔ 50اور مَیں جانتا ہُوں کہ اُس کا حُکم ہمیشہ کی زِندگی ہے ۔ پس جو کُچھ مَیں کہتا ہُوں جِس طرح باپ نے مُجھ سے فرمایا ہے اُسی طرح کہتا ہُوں۔

یوحنا 12: 23-50

اس بیان میں حضرت عیسیٰ المسیح نے فرمایا کہ میں اُونچے پر چڑھایا جاوں گا تاکہ سب لوگوں کو اپنی طرف کھیچ لوں۔ اس میں نہ صرف یہودی شامل ہیں بلکہ ساری قومیں۔ یہودی صرف ایک خدا کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ حضرت یسعیاہ نے فرمایا کہ یہ اُنہوں کے سخت دلی کی وجہ سے وہ سمجھ نہ سکے۔ اور اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جاننا پسند نہ کیا۔ لیکن کئی لوگوں نے خاموشی سے اس بات کو قبول کر لیا تھا۔

حضرت عیسیٰ المسیح نے بڑی دلیری سے اس بات کا دعوی کیا۔ کہ’وہ اس دنیا میں نور ہیں’ (آیت 46) جس کے بارے میں سابقہ انبیاءاکرام نے نبوت فرما دی تھی۔ کہ یہ نور تمام قوموں میں چمکے گا۔ اُس دن جب آپ یروشلیم میں داخل ہوئے تو یہ نور غیر قوموں پر چمکا۔ کیا یہ نور تمام قوموں تک پھیل چکا ہے؟ حضرت عیسیٰ المسیح کی اُونچے پر چڑھائے جانے سے کیا مراد تھی؟ ہم اس آخری ہفتے کو سمجھنے کے لیے اس کو جاری رکھیں گے۔

درج ذیل چارٹ اس ہفتے کے ہر دن کو بیان کرتا ہے۔ اتوار والے دن جو کہ ہفتے کا پہلا دن تھا۔ اُن میں سابقہ انبیاء اکرام کی تین مختلف نبوتیں پوری ہوئیں۔ پہلی یہ کہ آپ یروشلیم میں ایک جلوس کے ساتھ گدھے پر بیٹھ کر داخل ہوئے۔ جو کہ حضرت زکریا نبوت کی تھی۔ دوسری، حضرت دانیال نے نبوت کی تھی۔ تیسری نبوت حضرت یسعیاہ نے جس میں یہ بیان کیا گیا تھا۔ کہ غیرقوموں پر روشنی چمکے گی۔ جو تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔

آخری ہفتے کے واقعات-اتوار 1 دن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *