Skip to content
Home » آنے والے مسیح کا سات کا نشان

آنے والے مسیح کا سات کا نشان

قرآن شریف میں متعدد بار ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ سات کا دائرہ استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ، سورہ الطلا ق (سورہ 65 – طلاق) بیان کرتی ہے

خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے
سورة الطلاق 65: 12

اور سورة سورة النّبَإِ (سورة 78 – خوشخبری) بیان کرتی ہے۔

اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے
سورة سورة النّبَإِ 78: 12

تب ہمیں یہ حیرت نہیں کرنی چاہئے کہ مسیح کے آنے کا وقت بھی سات کی دہائی میں دیا گیا تھا ، جیسا کہ ہم نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

 جیسا کہ ہم انبیاء اکرام کے بارے میں سیکھ رہے ہیں۔ اور ہم نے اس بات کو جانا ہے کہ ان کے درمیان سینکڑوں سال کے عرصے کا فرق موجود ہے۔ لہذا اس طرح انسان ہوتے ہوئے وہ اپنی پیشن گوئیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں سکتے تھے۔ لیکن پھر بھی اُن کی یہ پیشن گوئیاں ایک ہی مرکزی موضوع کی طرف بڑھتی گئی کہ “مسیح (کرائسٹ) آرہا ہے”۔ ہم نے دیکھ کہ حضرت یسعیاہ نبی درخت کے ٹنڈ سے شاخ کی نشانی پیش کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت یرمیاہ نبی نے اس شاخ کے بارے میں پیشن گوئی کی۔ کہ اس کا نام عبرانی زبان میں یشوع ہوگا۔ جس کا یونانی میں یسوس (Iesous) اور انگلش میں یسوع (Jesus) اور عربی میں عیسیٰ ہے۔ جی ہاں، حضرت عیسیٰ مسیح کے نازل ہونے سے 500 سال پہلے اُن کے نام کی پیشن گوئی ہوچکی تھی۔ یہ پیشن گوئیاں آج بھی یہودیوں کی کتاب عہدِ عتیق میں (انجیل میں نہیں) لکھی ہوئی ہیں۔ جو آج بھی قابلِ قبول ہیں لیکن یہودی اس کو ٹھیک طریقے سے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حضرت دانیال

اب ہم حضرت دانیال کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں۔ وہ ایک اسرائیلی ہونے کی وجہ سے بابل کی جلاوطنی میں رہا اور بابلی اور فارسی حکومتوں کا بڑا خاص ہدے پر فائض رہا۔ نیچھے دیے گے ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے۔ کہ حضرت دانیال تاریخ کے کس دور میں نازل ہوئے۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ ٹائم لائن میں دوسرے انبیاء اکرام کے ساتھ دکھائے گے ہیں۔

حضرت دانیال اپنی کتاب ( جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی) میں حضرت جبرایل سے ایک پیغام موصول کرتے ہیں۔ حضرت دانیال اور حضرت مریم یہ دو واحد ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے حضرت جبرایل کے وسیلے پیغامات کو موصول کیا۔ لہذا ہمیں اس پیغام پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ حضرت جبرایل فرماتا ہے۔

 جبرائیل ۔ ۔ ۔ آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔  اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا ۔ ۔ ۔  تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جائے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
 پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔  اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔

دانی ایل 9: 21-26

ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں پر ایک “ممسوح” (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کی گئی ہے۔

حضرت جبرایل نے مسیح کے آںے کے بارے میں ایک ٹائم ٹیبل دیا تھا۔ حضرت جبرایل نے بتایا کہ “اُس دور میں یروشلیم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہوگا۔ اگرچہ حضرت دانیال کو یہ پیشن گوئی (537 ق م کے قریب دی گئی) کے شروع ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکا۔

یروشلیم کی دوبارہ تعمیر اور بحال کرنے کا حکم جاری

دراصل یہ حضرت نحمیاہ ہی تھا جو حضرت دانیال کے ایک سو سال بعد نازل ہوئے اور اُنہوں نے اس پیشن گوئی کے ابتدا کا وقت دیکھا۔ وہ شہنشاہ فارس کا ساقی تھا اور قصرِ سوسن میں رہتا تھا جو آج کا ایران ہے۔ ملاحظہ کریں جس ٹائم لائن میں رہتا تھا۔ وہ ہمیں اس کتاب میں بتاتا ہے۔

 ارتخششتابادشاہ کے بیسویں برس نیسان کے مہینے میں۔ ۔ ۔ بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کِس بات کے لئے تیری درخواست ہے ؟تب میں نے آسمان کے خدا سے دُعا کی ۔  پھِر میں نے بادشاہ سے کہا کہ اگر بادشاہ کی مرضی ہو اور اگر تیرے خادم پر تیرے کرم کی نظر ہے تو تومجھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر کو بھیج دے تاکہ میں اُسے تعمیر کروُ ں ۔

میں نے بادشاہ سے یہ بھی کہا اگر۔ ۔ ۔ ایک شاہی خط ملے کہ وہ ہیکل کے قلعہ کے پھاٹکوں کے لئے اور شہر پناہ اور اُس گھر کے لئے جس میں میں رہونگا کڑیا ں بنانے کومجھے لکڑی دے اور چونکہ میرے خدا کی شفقت کا ہاتھ مجھ پر تھا بادشاہ نے میری عرض قبول کی۔
تب میں نے دریا پار کے حاکموں کے پاس پہنچا کر بادشاہ کے پروانے اُنکو دِئے ۔ ۔ ۔نحمیاہ 2: 1-11

مندرجہ بالا حوالہ “یروشلیم کی تعمیر اور بحالی کے فیصلے کو جاری ” ہونے کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے بارے حضرت دانیال نے پیشن گوئی کی تھی کہ ایک دن ایسا آئے گا۔ جس میں تعمیر اور بحالی کا کام دوبارہ کیا جائے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شہنشاہ ارتختششتا کی حکومت کے 20 ویں برس واقعہ ہوا۔ اور یہ تاریخ مشہور ہے۔ جس کا آغاز 465 ق م میں ہوا۔اس طرح اُس کے عہد کے 20 ویں سال (44 ق م) میں یہ فرمان جاری ہوا۔ حضرت جبرایل نے حضرت دانیال کو اس پیشن گوئی کے شروع ہونے کے بارے میں کی نشان دیا تھا۔ اس طرح 100 سال بعد شہنشاہ ایران نے حضرت دانیال کی پیشن گوئی کو بغیر جانے اس بات کا فیصلہ دے دیا۔ اس طرح ممسوح فرماروا (مسیح) کے بارے میں پیشن گوئی کا آغاز ہوگیا۔

پراسرار سات

جو پیشن گوئی حضرت دانیال نبی کو حضرت جبرایل نے دی تھی۔ اُس سے یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کہ  7 ہفتے اور 62 ہفتے پھر مسیح نازل ہوگا۔ تو پھر سات سے کیا مراد ہے؟ حضرت موسیٰ کی تورات شریف میں ساتھ سالوں کا ایک چکر ہے۔ جس میں ہر 7 سال بعد کھیتی باڈٰی سے آرام کرنا تھا۔ تاکہ کھیت اپنی مٹی کی قدرتی اجزاء کو بحال کرسکیں۔ اس طرح سے 7 سے مراد ایک چکر ہے۔ اس طرح ہم  کہ اس بحالی کے پروگرام کو دو حصوں میں دیکھتے ہیں۔ پہلا حصہ سات بار سات یا پھر سات سال کی مدت تھی۔ یہ سات٭ سات 7٭7ٓ 49 سال تھا۔ یہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وقت تھا۔ یہ 62 بار سات کے مطابق بنتا تھا۔ اور کل گنتی اس طرح ہوئی۔ 7٭7 + 7٭ 62=483 سال بنتی تھی۔ دوسرے الفاظ میں شہنشاہ ارتختششتا سے لیکر میں کے آنے تک 483 سال بنتے تھے۔

360 دن کا سال

ہمیں ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک چھوٹا سا کیلنڈر  بنانا ہوگا۔ جس طرح قدیم زمانے میں بہت سی قوموں نے کیا۔ اور نبیوں نے ایک سال کی مدت کو 360 دنوں تک استعمال کیا۔ ایک سال کی مدت کو تعین کرنے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ مغربی طرز کا کیلنڈر (شمسی نظام ہر مبنی) ہے۔ جس میں 365۔24 دن ہوتے ہیں۔ اور اسلامی کیلنڈر( یہ کیلنڈرچاند کے چکر پر مبنی ہے۔) 354 دنوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت دانیال نے 360 دنوں والا کیلنڈر استعمال کیا۔ اس طرح 483 سال اور 360 دن، 483٭360/365۔24= 476 شمسی سالوں کے برابر ہے۔

مسیح کی آمد کا متوقع سال

اس معلومات کے مطابق ہم اس بات کا حساب لگاسکتے ہیں کہ مسیح کب آںے والے تھے۔

ہم “BC” کے دور سے ‘AD” کے دور تک جائیں گے۔ اس حساب کے مطابق 1 سال BC اور 1AD کے درمیان موجود ہے۔ (وہاں “صفر” سال نہیں ہے) اس حساب کی معلومات نیچے دیئے گے ٹیبل میں موجود ہے۔

شروع سال 20th اتختششتا بادشاہ کا سال     444 BC
وقت کی لمبائی 476 شمسی سال
مغربی کیلنڈر میں متوقع آمد (-444 + 476 + 1) (‘+1’ because there is no 0 AD) = 33
متوقع سال 33 AD

حضرت عیسیٰ (یسوع ناصری) یروشلیم میں گدھے کے بچے پر سوار داخل ہوئے۔ اور اس شاندار داخلے کا نام کھجوروں کا اتوار مشہور ہوگیا۔ اُس روز اُنہوں نے خود اعلان کیا اور یروشلیم میں اُنہوں نے مسیح کی حثیت سے مارچ کیا۔ یہ 33 AD کا سال تھا۔

حضرت دانیال اور حضرت نحمیاہ دونوں کا آپس میں ایک سو سال کا فرق ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن دونوں نے اللہ تعالیٰ سے پیشن گوئیوں کو حاصل کیا اور مسیح کے ظاہر ہونے کے وقت کوظاہر کیا۔ اور تقریباً حضرت دانیال نے ان پیشن گوئیوں کو حضرت جبرایل سے 570 سال پہلے حاصل کیا تھا۔کہ حضرت عیسیٰ ایک مسیح کے طور پر یروشلیم میں داخل ہونے گے۔ یہ ایک انتہائی قابلِ ذکر اور عین مطابق تکمیل ہونے والی پیشن گوئی تھی۔ اس کے ساتھ حضرت زکریا نے مسیح کے نام کی پینش گوئی کی تھی۔ وہ پیشن گوئی بھی اُسی روز تکمیل ہوئی۔ ان انبیاء اکرام نے پیشن گوئیوں کا ایک حقیقی گروہ تشکیل دیا تاکہ اُن سب کو معلوم ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے منصوبے کو جاننا چاہتے ہیں۔

لیکن اگر یہ پیشن گوئیاں نہائیت قابلِ ذکر ہیں ۔ اور یہ تمام یہودیوں کی مقدس تورات شریف اور زبور شریف میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ تو پھر یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو مسیح کے طور پر قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ اُن کی کتاب میں موجود ہے! جو کچھ ہم سوچتے ہیں اُس کو واضع ہونا چاہیے، خاص طور پر اُن قابلِ ذکر اور عین وقت پر پوری ہونے والی پیشن گوئیوں کو۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہودی کیوں حضرت عیسیٰ کو بطور مسیح کے قبول نہیں کرتے۔ اس بات کے لیے ہم مزید اگلے سبق میں انبیاء اکرام کی پیشن گوئیوں کو جانیں گے۔

گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *