Skip to content
Home » قران شریف اور تاریخ : کیا عیسیٰ ال مسیح صلیب پر مرے تھے ؟

قران شریف اور تاریخ : کیا عیسیٰ ال مسیح صلیب پر مرے تھے ؟

اس سوال کی ہم تفصیل سے جانچ کرتے ہیں ، (318) انوهجری میں  کعبہ سے حجر اسود کے غائب ہو جانے کا استمعال کرتے ہوئے تاکہ  اس کیفیت کی مثال پیش کر سکے –   

وہ لوگ جو انکار کرتے ہیں عیسیٰ ال مسیح صلیب پر مرے عام طور سے سورہ ان – نساء کی 157 آیت کو پیش کرتے ہیں –     

. اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اللہ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیاo

4:157 سورہ ان – نساء

کیا عیسیٰ ال مسیح ہلاک ہوئے تھے ؟

غور کریں کہ یہ آیت یہ نہیں کہتا حضرت عیسیٰ ال مسیح نہیں مرے –یہ اسطرح کہتا ہے کہ یہودیوں نے انکو ‘ہلاک نہیں کیا ‘… یہ فرق بیان ہے – انجیل شریف  بیان کرتی ہے کہ یہودیوں نے نبی حضرت عیسیٰ مسیح کو گرفتار کیا اور سردار کاہن کیفا ان پر مقدّمہ چلایا  مگر  

 (28)پِھر وہ یِسُو ع کو کائِفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صُبح کا وقت تھا اور وہ خُود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فَسح کھا سکیں  

۔18:28یوحنا

پلاٹس روم کا حاکم تھا – یہودی لوگ روم کے قبضے میں ہونے کے ناتے انھیں کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ کسی لو موت کی سزا دے – پلا طس جو روم کا حاکم تھا اس نے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح  کو رومی سپاہیوں کے حوالے کیا تھا – 

(16)اِس پر اُس نے اُس کو اُن کے حوالہ کِیا کہ مصلُوب کِیا جائے۔ پس وہ یِسُوع کو

یوحنا۔19:16

تو پھر رومی سرکار اور رومی سپشی تھے جنہوں نے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کو صلیب دی تھی —  نہ کہ یہودیوں نے – نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے شاگردوں نے یہودی رہنماؤں پر الزام لگا یا  کہ  

(13)ابرہا م اور اِضحا ق اور یعقُو ب کے خُدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خُدا نے اپنے خادِم یِسُو ع کو جلال دِیا جِسے تُم نے پکڑوا دِیا اور جب پِیلا طُس نے اُسے چھوڑ دینے کا قَصد کِیا تو تُم نے اُس کے سامنے اُس کا اِنکار کِیا۔

3:13اعمال

یہودیوں نے انکو رومیوں کے حوالے کیا اور رومیوں نے انکو صلیب دی – ان کے صلیب پر مرنے کے بعد انکی لاش کو قبر میں رکھ دیا گیا تھا –

(41)اور جِس جگہ وہ مصلُوب ہُؤا وہاں ایک باغ تھا اور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی جِس میں کبھی کوئی نہ رکھا گیا تھا۔
(42)پس اُنہوں نے یہُودِیوں کی تیّاری کے دِن کے باعِث یِسُوع کو وہِیں رکھ دِیا کیونکہ یہ قبر نزدِیک تھی۔:

42 -41یوحنا

ان نساء 157 بیان کرتا ہے یہودیوں نے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کو صلیب نہیں دی – ی سہی ہے – کیونکہ رومیوں نے انکو صلیب دی تھی –    

سورہ مریم اور نبی حضرت عیسیٰ کی موت

سورہ مریم صاف ظاہر کرتا ہے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح مرے تھے یا نہیں –                                                                                                                                                 

 اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گاo

یہ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے عیسٰی (علیہ السلام) ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیںo

19:33-34 سورہ مریم

یہ صاف بیان کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ال مسیح نے اپنی پیشں نظر کے سبب سے اپنے آنے والی موت کی بابت کلام کیا جس طرح سے انجیل شریف بیان کرتی ہے

مسیح کے ‘عوض میں یہودا اسکریوت کے مارے جانے’ کا نظریہ

غلط فہمیوں سے بہت زیادہ پھیلا ہوا یہ نظریہ کہ یہودا اسکریوت کی شکل عیسیٰ ال مسیح جیسی تبدیل ہو گیئ – پھر یہودیوں  نے یہودا اسکریوت کو گرفتار کیا (جو اب عیسیٰ جسا دیکھتا تھا) ،رومیوں نے یہودا اسکریوت کو صلیب دی (جو ابھی بھی عیسیٰ کے مشابہ تھا)  ، آخر کار یہودا دفن ہوا تھا (جو ابھی بھی عیسیٰ جیسا دکھ رہا تھا) اس نظریے میں حضرت عیسیٰ ال مسیح بغیر مرے براہے راست آسمان پر گئے – حلانکہ نہ تو قرآن شریف میں اور نہ  انجیل شریف  میں کہیں بھی اس طرح کے بیانات کو اتمام تک پہنچایا گیا ہے ، مگر اس غلط فہمی کو جان بوجھ کر پھیلایا گیا ہے –   

عیسیٰ ال مسیح  تاریخی قلمبند میں

غیر مذہبی تاریخ کے کئی  ایک حوالہ جات حضرت عیسیٰ ال مسیح اور انکی موت کا بیان کرتے ہیں – آئیے ہم ان میں سے دو پر غور کریں – رومی تاریخدان ٹیسٹس نے یہ بیان کرتے ہوئے حوالہ دیا کہ کس طرح رومی سلطنت کے نیرو بادشاہ نے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کے پہلے شاگردوں کو 65 عیسوی میں بہت بے دردی سے ستایا تھا – ٹیسٹس نے لکھا :

‘نیرو نے ان لوگوں کو انتہائی شدّت سے ستاتے ہوئے سزا دی جو مسیحی کہلاتے تھے جو انکے جرم کے لئے نفرت کئے جاتے تھے – خرستس  نام بانی کو پونتس پلا طس کے زریعے مروا دیا گیا تھا جو تبریس  کے علاقے میں یہودیہ کا حاکم تھا : مگر ایک وقت کے لئے (تھوڑے عرصہ کے لئے) اس تباہ کن باطل عقید ہ کو جو دبا گیا تھا اسکو پھر سے توڑ دیا گیا ، نہ یہودیوں کے وسیلے سے جہاں غلطی شروع  ہوئی تھی بلکہ روم کے شہر کے وسیلے سے بھی ‘-

XV. 44ٹیسٹس اننلس  

     

ٹیسٹس تصدیق کرتا ہے کہ عیسیٰ ال مسیح :

ایک تاریخی شخص تھے – 1                                                                                                               پونطس پلا طس کے کے ذرئیے ہلاک کئے گئے تھ                                                                                     

3) اسکے شاگردوں نے نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کی موت کے بعد یہودیہ (یروشلیم) میں اپنی تحریک شروع کی تھی – 

4) 65 عیسوی میں (نیرو کے زمانے میں) عیسیٰ کے شاگردوں نے اپنی منادی کو یہودیوں سے شرو ع کرکے روم تک لے گئے تب رومی سلطنت نے احساس کیا کہ اسکو روکا جانا چاہئے

جوسیفس ایک ہہودی ، رومی سپاہیوں کا رہنما اور تاریخدان تھا جو پہلی صدی میں یہودی تاریخ لکھا کرتا تھا – ایسا کرتے ہوئے اس نے حضرت عیسیٰ ال مسیح کی زندگی کو ان لفظوں میں بیان کیا کہ :

اس زمانے میں ایک دانش مند ایک دانشمند شخص تھا …یسوع – …. وہ اچھا  اور … نیک ہے – اور بہت سے لوگ یہودیوں میں سے اور دیگر قوموں میں سے اسکے شاگرد ہو چکے ہیں – پلا  طس کو مجبور کیا گیا کہ اسکو سزاوار ٹھہرائے اور مصلوب کرے کہ وہ ہلاک ہو – اور جواسکے شاگرد بن چکے تھے انہوں نے اپنی شاگردگی کو آخری دم تک نہیں چھوڑا – انہوں نے اطلاع دی کہ اسکی مصلوبیٹ کے تین دن بعد وہ انپر ظاہر ہوا تھا –

-33  XVIIIجوسیفس90 عیسوی  اینٹی کوئیٹس

جوسیفس تصدیق کرتا ہے کہ :

1) عیسیٰ ال مسیح کا وجود تھا –                                                                                                                       

2) وہ ایک مزہبی استاد تھا –                                                                                                                           

  3تھا پلا طس جو روم کا گورنر تھا اس نے اسے

  4) اسکے شاگردوں نے اسکے مرنے کے

ان تاریخی بیانات سے لگتا ہے کہ نبی کی موت جانی پہچانی تھی ،بنا بحث والا واقعہ تھا – اسکے مردوں میں سے جی اٹھنے کے ساتھ  اسکے  شاگردوں  کے زریعے تمام رومی سلطنت میں منادی کی گیئ –

بائبل سے — تاریخی گوشہ  گمنامی       

یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ بائبل میں کس طرح اعمال کی کتاب ان تمام واقعیات کو قلمبند کرتی ہے کہ اب شهاگردوں نے یروشلیم میں مندر کے پھاٹک کے سامنے کھڑے ہوکر عیسیٰ ال مسیح کے جی اٹھنے کی گواہی دی اور اسکی منادی بھی کی –

 

(1)جب وہ لوگوں سے یہ کہہ رہے تھے تو کاہِن اور ہَیکل کا سردار اور صدُوقی اُن پر چڑھ آئے۔
(2)وہ سخت رنجِیدہ ہُوئے کیونکہ یہ لوگوں کو تعلِیم دیتے اور یِسُوع کی نظِیر دے کر مُردوں کے جی اُٹھنے کی مُنادی کرتے تھے۔
(3)اور اُنہوں نے اُن کو پکڑ کر دُوسرے دِن تک حوالات میں رکھّا کیونکہ شام ہو گئی تھی۔
(4)مگر کلام کے سُننے والوں میں سے بُہتیرے اِیمان لائے ۔ یہاں تک کہ مَردوں کی تعداد پانچ ہزار کے قرِیب ہو گئی۔
(5)دُوسرے دِن یُوں ہُؤا کہ اُن کے سردار اور بزُرگ اور فقِیہہ۔
(6)اور سردار کاہِن حنّا اور کائِفا اور یُوحنّا اور اِسکندر اور جِتنے سردار کاہِن کے گھرانے کے تھے یروشلِیم میں جمع ہُوئے۔
(7)اور اُن کو بِیچ میں کھڑا کر کے پُوچھنے لگے کہ تُم نے یہ کام کِس قُدرت اور کِس نام سے کِیا؟۔
(8)اُس وقت پطرس نے رُوحُ القُدس سے معمُور ہو کر اُن سے کہا۔
(9)اَے اُمّت کے سردارو اور بزُرگو! اگر آج ہم سے اُس اِحسان کی بابت بازپُرس کی جاتی ہے جو ایک ناتواں آدمی پر ہُؤا کہ وہ کیوں کر اچّھا ہو گیا۔
(10)تو تُم سب اور اِسرا ئیل کی ساری اُمّت کو معلُوم ہو کہ یِسُو ع مسِیح ناصری جِس کو تُم نے مصلُوب کِیااور خُدا نے مُردوں میں سے جِلایا اُسی کے نام سے یہ شخص تُمہارے سامنے تندرُست کھڑا ہے۔
(11)یہ وُہی پتّھر ہے جِسے تُم مِعماروں نے حقِیر جانا اور وہ کونے کے سِرے کا پتّھر ہو گیا۔
(12)اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تَلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔
(13)جب اُنہوں نے پطر س اور یُوحنّا کی دِلیری دیکھی اور معلُوم کِیا کہ یہ اَن پڑھ اور ناواقِف آدمی ہیں تو تعجُّب کِیا ۔ پِھر اُنہیں پہچانا کہ یہ یِسُو ع کے ساتھ رہے ہیں۔
(14)اور اُس آدمی کو جو اچّھا ہُؤا تھا اُن کے ساتھ کھڑا دیکھ کر کُچھ خِلاف نہ کہہ سکے۔
(15)مگر اُنہیں صدرعدالت سے باہر جانے کا حُکم دے کر آپس میں مشوَرہ کرنے لگے۔
(16)کہ ہم اِن آدمِیوں کے ساتھ کیا کریں؟ کیونکہ یروشلِیم کے سب رہنے والوں پر رَوشن ہے کہ اُن سے ایک صرِیح مُعجِزہ ظاہِر ہُؤا اور ہم اِس کا اِنکار نہیں کر سکتے۔
(17)لیکن اِس لِئے کہ یہ لوگوں میں زِیادہ مشہُور نہ ہو ہم اُنہیں دھمکائیں کہ پِھر یہ نام لے کر کِسی سے بات نہ کریں۔

4:1-17اعمال

        

(17)پِھر سردار کاہِن اور اُس کے سب ساتھی جو صدُوقیوں کے فِرقہ کے تھے حَسد کے مارے اُٹھے۔
(18)اور رسُولوں کو پکڑ کر عام حوالات میں رکھ دِیا۔
(19)مگر خُداوند کے ایک فرِشتہ نے رات کو قَیدخانہ کے دروازے کھولے اور اُنہیں باہر لا کر کہا کہ۔
(20)جاؤ ہَیکل میں کھڑے ہو کر اِس زِندگی کی سب باتیں لوگوں کو سُناؤ۔
(21)وہ یہ سُن کر صُبح ہوتے ہی ہَیکل میں گئے اور تعلِیم دینے لگے مگر سردار کاہِن اور اُس کے ساتِھیوں نے آ کر صدر عدالت والوں اور بنی اِسرائیل کے سب بزُرگوں کو جمع کِیا اور قَیدخانہ میں کہلا بھیجا کہ اُنہیں لائیں۔
(22)لیکن پیادوں نے پُہنچ کر اُنہیں قَیدخانہ میں نہ پایا اور لَوٹ کر خبر دی۔
(23)کہ ہم نے قَیدخانہ کو تو بڑی حِفاظت سے بند کِیا ہُؤا اور پہرے والوں کو دروازوں پر کھڑے پایا مگر جب کھولا تو اندر کوئی نہ مِلا۔
(24)جب ہَیکل کے سردار اور سردار کاہِنوں نے یہ باتیں سُنِیں تو اُن کے بارے میں حَیران ہُوئے کہ اِس کا کیا اَنجام ہو گا۔
(25)اِتنے میں کِسی نے آ کر اُنہیں خبر دی کہ دیکھو ۔ وہ آدمی جنہیں تُم نے قَید کِیا تھا ہَیکل میں کھڑے لوگوں کو تعلِیم دے رہے ہیں۔
(26)تب سردار پیادوں کے ساتھ جا کر اُنہیں لے آیا لیکن زبردستی نہیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے کہ ہم کو سنگسار نہ کریں۔
(27)پِھر اُنہیں لا کر عدالت میں کھڑا کر دِیا اور سردار کاہِن نے اُن سے یہ کہا۔
(28)کہ ہم نے تو تُمہیں سخت تاکِید کی تھی کہ یہ نام لے کر تعلِیم نہ دینا مگر دیکھو تُم نے تمام یروشلِیم میں اپنی تعلِیم پَھیلا دی اور اُس شخص کا خُون ہماری گَردن پر رکھنا چاہتے ہو۔
(29)پطر س اور رسُولوں نے جواب میں کہا کہ ہمیں آدمِیوں کے حُکم کی نِسبت خُدا کا حُکم ماننا زِیادہ فرض ہے۔
(30)ہمارے باپ دادا کے خُدا نے یِسُو ع کو جِلایا جِسے تُم نے صلِیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا۔
(31)اُسی کو خُدا نے مالِک اور مُنجّی ٹھہرا کر اپنے دہنے ہاتھ سے سر بُلند کِیا تاکہ اِسرا ئیل کو تَوبہ کی تَوفِیق اورگُناہوں کی مُعافی بخشے۔
(32)اور ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور رُوحُ القُدس بھی جِسے خُدا نے اُنہیں بخشا ہے جو اُس کا حُکم مانتے ہیں۔
(33)وہ یہ سُن کر جل گئے اور اُنہیں قتل کرنا چاہا۔
(34)مگرگملی ایل نام ایک فرِیسی نے جو شرع کا مُعلِّم اور سب لوگوں میں عِزّت دار تھا عدالت میں کھڑے ہو کر حُکم دِیا کہ اِن آدمِیوں کو تھوڑی دیر کے لِئے باہر کر دو۔
(35)پِھر اُن سے کہا کہ اَے اِسرائیِلیو!اِن آدمِیوں کے ساتھ جو کُچھ کِیا چاہتے ہو ہوشیاری سے کرنا۔
(36)کیونکہ اِن دِنوں سے پہلے تھیُودا س نے اُٹھ کر دعویٰ کِیا تھا کہ مَیں بھی کُچھ ہُوں اور تخمِیناً چار سَو آدمی اُس کے ساتھ ہو گئے تھے مگر وہ مارا گیا اور جِتنے اُس کے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہُوئے اور مِٹ گئے۔
(37)اِس شخص کے بعد یہُودا ہ گلِیلی اِسم نوِیسی کے دِنوں میں اُٹھا اور اُس نے کُچھ لوگ اپنی طرف کر لِئے ۔ وہ بھی ہلاک ہُؤا اور جِتنے اُس کے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہو گئے۔
(38)پس اب مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِن آدمِیوں سے کنا رہ کرو اور اِن سے کُچھ کام نہ رکھّو ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ خُدا سے بھی لڑنے والے ٹھہرو کیونکہ یہ تدبِیر یا کام اگر آدمِیوں کی طرف سے ہے تو آپ برباد ہو جائے گا۔
(39)لیکن اگر خُدا کی طرف سے ہے تو تُم اِن لوگوں کو مغلُوب نہ کر سکو گے۔
(40)اُنہوں نے اُس کی بات مانی اور رسُولوں کو پاس بُلا کر اُن کو پِٹوایا اور یہ حُکم دے کر چھوڑ دِیا کہ یِسُو ع کا نام لے کر بات نہ کرنا۔
(41)پس وہ عدالت سے اِس بات پر خُوش ہو کر چلے گئے کہ ہم اُس نام کی خاطِر بے عِزّت ہونے کے لائِق تو ٹھہرے۔

5:17-41اعمال

اس بات پر غور کریں کہ کس طرح یہودی رہنماؤں نے رسولوں کے پیغام کو روکنے کی بہھت زیادہ کوشش کی – جس طرح سے موجودہ سرکاریں نی تحریکوں سے ڈرتی ہیں اور لوگوں کو جیل میں ڈالتی ہیں اسی طرح اس زمانے کے یہودی رہنماؤں نے بھی عیسیٰ ال مسیح کے کچھ شاگردوں کو منادی کرنے سے روکنے کے لئے دھمکی دی ، گرفتار کیا ،مارا پیتا ، قید میں ڈالا اور آخرکار انھیں موت کی نیند سلا دیا – ان شاگردوں نے یروشلیم میں اپنے پیغام کی منادی کی – اسی شہر میں جہاں کچھ ہی ہفتے پہلے عیسیٰ ال مسیح کے نام میں ظاہر ہوئے ایک شخص کو سرعام ہلاک کرکے اسکو دفن کر دیا گیا تھا – مگر کون ہلاک ہوا تھا ؟ ایک نبی یا یہودا اسکریوت جسکو اسکے جیسا بنا دیا گیا تھا ؟     

آئیے دوسری صورتوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا حل نکلتا ہے –

عیسیٰ ال مسیح کا جسم اور قبر  

قبر کو لیکر صرف دو ہی انتخاب ہیں – یا تو قبر خالی تھا یا ابھی بھی اس میں ایک لاش رکھی ہوئی تھی جو نبی کے جیسی دکھتی تھی – اس میں کوئی دو راۓ نہیں ہے —  

آئے ہم اس نظریے کو فرض کرتے ہیں کہ یہودا کو نبی کی شکل جیسی بنا دی گیئ تھی اور اسکو مسیح کے مقام پر صلیب دے دی گیئ تھی ، اور پھر اسکا جسم جو (نبی کے مشابہ تھی) قبر میں رکھ دی گیئ تھی –اب دوسرے واقعیات کی بابت سوچیں جو تاریخ میں واقع ہوئی جنہیں ہم جانتے ہیں – جوسیفس ، ٹیسیٹس ، اور اعمال کی کتاب ہم سے کہتے ہیں کہ شاگردوں  نے یروشلیم میں منادی کے اپنے پیغام شرو ع  کر دیے اور یہودی اختیار والوں نے شاگردوں کی مخالفت میں سخت کاروائی کی جب انہوں نے مصلوبیت کے کچھ ہی دنوں بعد منادی کرنا شروع  کر دیا تھا مگر(یہودا جو نبی جیسا لگتا تھا )- جبکی ہم اس نظریے کو فرض کر رہے ہیں مگر یہ نظریہ قبول کرتا ہے کہ یہودا مرا پڑا تھا – اس نظریے میں لاش قبر میں پڑی رہی (مگر ابھی بھی وہ بدلا ہوا نبی کی شکل کا لگتا تھا)  — شاگرد ، رومی سرکار ،ٹیسیٹس ، جوسیفس – یہاں تک کہ –ہر کوئی سوچےگا کہ وہ نبی کی لاش تھی مگر حقیقت میں یہودا کی مردہ لاش تھی (جو نبی کی شکل کا تھا )–   

  اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یروشلیم میں رومی سرکار اور یہودی رہنماؤں کو سنجیدہ فیصلہ لینے کی ضرورت تھی کہ اس مردہ لاش کے مردوں میں سے جی اٹھنے کی کہانی کو پھیلنے سے روکا جاۓ جو ابھی بھی قبر میں پڑی تھی – اس کے ساتھ ساتھ نبی کے مردوں میں سے جی اٹھنے کی بابت کھلے عام منادی کرنا ایسا کیوں ہو رہا تھا ؟ اگر یہودا کا جسم (جو عیسیٰ ال مسیح جیسا دکھ رہا تھا ) جو ابھی بھی قبر میں رکھا ہوا ہوگا تو یہ اختیار والوں کے لئے ایک معمولی بات تھی کی اسے ہر ایک کو دکھاۓ  اور اس طرح شاگردوں کو جھٹلاہے (جنہوں نے کہا کہ مسیح جی اٹھا ہے )- بنا قید کرنے کے ، اور بنا ستاو کے آخرکار انھیں شہیدی موت دے دیتے – یہی سبب تھا کی انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہاں پر دکھانے کے لئے کوئی مردہ لاش نہیں تھا  اور قبر بلکل سے خالی پڑا ہوا تھا –

ال حجر اسود ، کعبہ اور مثال بطور مکّہ مدینہ کی مسجدیں   

  30 9  میں چرچ آف انگلینڈ (318 انو هجری) میں حجر اسود کی چوری ہوگیی تھی اور مکہ میں اسکوایک شتی جماعت کے زریعے کعبہ سے ہٹا دیا گیا تھا – اس زمانے میں یہ جما عت عباسد سلطنت کے خلاف تھی – انکے کعبہ لوٹ آنے سے پہلے یہ انکے قبضے میں رہا – حجر اسود بھی کسی کے ماتحتی سے چوک سکتا ہے –           

اس طرح کی ایک حالت کا تصوّر کریں جہاں ایک جماعت مکّہ کے ایک بڑ ی مسجد (ال مسجد الحرام ) مے کھڑے ہوکر بھیڑ کا سامنے سر عام منادی کرتا ہو کہ اب حجر اسود کعبہ کے مشرقی کونے پر موجود نہیں ہے – انکا یہ پیغام اتنا قائل کر دینے والا ہے کہ مسجد میں آنے جانے والے حاجی یقین کرنے لگتے ہیں کہ حجر اسود اب ھاتھسے گیا – ان دو مقدّس مسجدوں کے محافظ (خادم ال حرا مین اس – صریفا ئین) کیسے اس پیغام کا مقابلہ کر سکتے تھے ؟ اگر پیغام جھوٹا تھا اور حجر اسود کعبہ میں اپنی بہتر حالت میں موجود ہے تو محافظوں کو چاہئے تھا کہ اس پیغام کو روک دے تاکہ سرعام یہ بتانے کے لئے کہ حجر اسود کعبہ میں ابھی بھی اپنے مقرّرہ مقام پر ویسے ہی موجود ہے جیسے صدیوں سے رہتا چلا آرہا ہے – تو یہ خیال بہت جلد بے — اعتبار ثابت ہوتا  – مکّہ میں حجر اسود کا مسجد سے قریب ہونا اسکو ممکن کرتا ہے – اس کے برخلاف اس خیال کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حجر اسود کو نہ دکھا پاے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں حجر اسود ہاتھ سے نکل چکا ہے جس طرح 318 انو هجری میں ہاتھ سے نکل گیا تھا –

کسی طرح اگر یہ جماعت مدینہ کے مسجد (ال – مسجد ال – نبوی)  میں ہے یہ خبر دیتے ہوئے کہ حجر اسود مکّہ میں کعبہ سے (450 کلومیٹر دور) ہٹا دیا گیا ہے تو پھر دو مقدّس مسجدوں کے محافظوں کے لئے اپنی کہانی کو غلط ثابت کرنا اور زیادہ مشکل پیش آتی جبکہ مدینہ کے لوگوں کو یہ بتانا مشکل ہو جاتا کہ حجر اسود بہت دور ہے –       

 کسی متبررک چیز کی بابت بحث کی نزدیکی جھوٹا ثابت کرنے میں آسان بنا دیتی ہے یا تصدیق کرنا اسکی بابت دعوی پیش کرتا ہے جبکہ  وہ جانچے جانے کے قریب ہے –  

یہودی رہنماؤں نے مسیح کے مردوں میں سے جی ا ٹھنے کے پیغام کی مخالفت کی تھی مگر ایک جسم کے ساتھ جھٹلایا نہیں تھا –

یہ طریقہ یروشلیم میں یہودا /عیسیٰ کے مردہ لاش پر نافذ ہوتا ہے – قبر جہاں یہودا کی لاش نمایاں ہے (جو عیسیٰ جیسا لگتا ہے) وہ مندر سے کچھ ہی میٹر دوری پر پڑا تھا جہاں عیسیٰ ال مسیح کے شاگرد بھیڑ سے مخاطب ہوکر چلا رہے تھے کہ نبی عیسیٰ مردوں میں سے زندہ ہو گئے ہیں – یہودی رہنماؤں کے لئے قبر میں یہودا کی لاش کو (جو عیسیٰ جیسی دکھتی تھی)دکھاتے ہوئے یوں ہی انکے جی اٹھنے کے پیغام پر یقین نہ کرنا آسان ہو سکتا تھا – یہ حقیقت ہے کہ جی اٹھنے کا پیغام (جو ایک لاش کے ساتھ غلط ثابت کیا جاتا ہے وہ ابھی بھی قبر میں ہے ) وہ قبر کے پاس سے ہی شرو ع ہوا ، جہاں ہر کوئی ثبوت دیکھ سکتا تھا – جبکہ یہودی رہنماؤں نے ایک مردہ لاش کو دکھانے کے زریعے پیغام کو نہیں جھٹلایا بلکہ وہاں کوئی لاش دکھانے کے لئے نہیں تھی –    

ہزاروں لوگ یروشلیم میں مسیح کے جی اٹھنے کے پیغام پر ایمان لے اے تھے

ان دنوں یروشلیم میں عیسیٰ ال مسیح کے جسمانی طور سے زندہ ہو جانے پر ہزاروں لوگ ایمان لاکر تبدیل ہو گئے تھے (مسیحیت کو قبول کیا تھا)- پطرس جس بھیڑ سے مخاطب تھا وہ جو اسکی سن رہے تھے اگر آپ ان میں سے ایک ہوتے تو تعجّب کرتے ہوئے کہ اگر اسکا پیغام سچ تھا ، کیا آپ کے پاس کم از کم اتنا وقت نہیں تھا کہ دوپہر کے کھانے کے وقت وقفہ لیکر قبر پر جاتے اور اپنے یقین کے لئے دیکھتے کہ وہاں پر ابھی بھی کوئی لاش تھی کہ نہیں – اگر یہودا کی لاش (جو نبی عیسیٰ ال مسیح کی جیسی دکھتی تھی) قبر میں پڑی رہتی تو کوئی بھی رسولوں کے پیغام پر ایمان نہیں لاتا – مگر تاریخ بتاتی  ہے کہ یروشلیم سے شرو ع کرتے ہوئے شاگردوں نے ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف کر لیا تھا جو کہ اس لاش کے ساتھ ممکن رہا تھا ہوگا جو نبی کے جیسے لگ رہا تھا –جو ابھی بھی یروشلیم کے آس پاس ہی تھا –یہودا کی لاش قبر میں پڑا رہنا بے – سود یا خلاف عقل کی طرف لے جاتا ہے – اس میں کوئی سمجھداری نہیں ہے –     

یہودا کی لاش کے نظریے کو خالی قبر نہیں سمجھا سکتا – 

یہودا کے اس نظریے کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ اسکو عیسیٰ ال مسیح کی شکل مے تبدیل کیا جانا اور اسے مصلوب کیا جانا اور اسکو قبر میں دفنایا جانا ، کیا وہ ایک گھیری ہوئی قبر کی جگہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے – مگر صرف خالی قبر ہی شاگردوں کے لئے دوسروں کو سمجھانے کا ایک ذریعہ  تھا کہ وہاں سے اپنی منادی یا گواہی کو شرو ع  کرنے کے قابل تھے صرف کچھ ہفتوں بعد پنتیکست کے موقعہ  پر  جو نبی کے مردوں میں سے جی اٹھنے کی تحریک کی بنیاد پر جو کہ اسی شہر میں ہلاک ہونے کی صورت میں تھی —  

صرف دو انتخاب تھے ، ایک یہودا کی لاش کے ساتھ جو نبی کے جیسا لگتا تھا ، جو قبر میں پڑا ہوا تھا ، اور دوسرا نبی حضرت عیسیٰ ال مسیح کا مردوں میں سے جی اٹھنا ایک خالی قبر کے ساتھ –جبکہ یہودا کی لاش کا قبر میں پڑا رہنا خلاف عقل کی طرف لے جاتا ہے – پھر عیسیٰ ال مسیح کا رومیوں کے ہاتھوں مرا جانا اور قبر سے جی اٹھنا جس طرح انجیل شریف میں صاف بیان کیا گیا ہے ، یہ ہمکو زندگی کا انعام پیش کر رہا ہے

آگے اس سوال کی کھوج کرتے ہوئے تلاش کرنے والا کمنگ سننی لٹریچر کی نظرے ثانی پیش کرتا ہے جس کا ترجمہ کلیرکس اور دیگر علماء نے کیا ہے –  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *